بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت کے موقع پر مختلف طبقوں کے ہزاروں عوام سے خطاب کیا۔ آپ کی تقریر کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرّحمن الرّحیم
الحمد لله ربّ العالمین
والصّلاة والسّلام علی سیّدنا ونبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد
وعلی آله الاطیبین الاطهرین المنتجبین الهداة المهدیّین
سیّما بقیّة الله فی الارضین
آپ برادارن اور خواہران عزیز کو ـ جو یہاں تشریف رکھتے ہیں ـ مبارکباد عرض کرتا ہوں اور ملت ایران، دنیا بھر کے مسلمانوں اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کو، شریف اور عظیم عید مبعث کی مناسبت سے۔ ان شاء اللہ اس دن کی یاد دلوں کو روشن کرے، ہمیں راستہ دکھایا اور ہم بعثت کی حقیقت سے مستفید ہو سکیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت کا دن بہت اہم دن ہے؛ یعنی انسانی تاریخ میں اس سے زیادہ بڑا اور اہم دن نہیں ہے۔ بعثت کا دن، درحقیقت قرآن کی ولات کا دن ہے؛ قرآن سراپا حکمت اور سراپا نور؛ اور امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے بقول "نور ساطع" اے؛ آپؑ نے فرمایا "النور الساطع" [1] یہ انسان کام کی تریبت کا دن ہے؛ یعنی اس دن سے کامل انسانوں کی تربیت کی منصوبہ بندی کا امکان فراہم ہؤا اور انسان کامل کا اکمل و اتمّ نمونہ ائمۂ ہُدیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ یہ اسلامی تہذیب و تمدن کا نقشہ بنانے کا دن ہے؛ یعنی اس روز ہی ـ درحقیقت ـ اسلامی تہذیب کا آغاز ہؤا اور وہ عظیم، تاریخی اور زندہ جاوید نقشہ (اور منصوبہ) جو میرے اور آپ کے ہاتھ میں ہے، عالم وجود میں آگیا۔ اور یہ عدل، مساوات اور اخوت کا پرچم لہرانے کا دن ہے۔ عید مبعث کے فضائل ہم جیسے لوگ بیان نہیں کر سکتے؛ یعنی ہماری فہم، ہماری زبان اور ہمارے دل اس سے کہیں زیادہ چھوٹے اور قاصر ہیں کہ بعثت پیغمبرؐ کی اہمیت کو بیان کریں۔ جی ہاں! امیرالمؤمنینؑ بیان کر سکتے ہیں، اور آپؑ نے بیان فرمائے ہيں۔ آپ رجوع کریں نہج البلاغہ سے؛ نہج البلاغہ کا دوسرا خطبہ بعثت کے بارے میں ہے۔ کہ اللہ نے آپؐ کو کیونکر مبعوث فرمایا اور کن حالات اور کس صورت حال میں؛ نہج البلاغہ کے کچھ دوسرے خطبوں میں بھی یہ موضوع بیان ہؤا ہے۔
میں بعثت کے موضوع پر ایک نکتہ بیان کرنا چاہوں گا جو ہماری دوسری باتوں سے کہیں زیادہ، ہمارے آج کے کام آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ پیغمبرؐ کی بعثت حقیقی انسانی تمدن کا مظہر ہے؛ یعنی اگر انسان بہترین انداز سے زندگی چاہتا ہے تو اسے اس پروگرام کے مطابق جینا چاہئے جو بعثت میں پیش کیا گیا ہے؛ اسی پروگرام کے ساتھ اچھی زندگی گذار سکتا ہے۔
یہ واقعہ کہاں رونما ہؤا؟ بعثت کہاں اور کن حالات میں وقوع پذیر ہوئی؟ بعثت انتہائی برے حالات میں وقوع پذیر ہوئی؛ ایسے لوگوں کے بیچ جو اس روز ـ اخلاقی لحاظ سے، فکری لحاظ سے، دل کے لحاظ سے، بدترین، شقی ترین، ضدی ترین، تندمزاج ترین، ظالم ترین، جابر ترین، ـ سمجھے جاتے تھے؛ جزیرۃ العرب کا حال یہ تھا۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اس دن کے حالات کے بارے میں فرماتے ہیں: "فَالهُدىٰ خامِلٌ وَالعَمىٰ شامِلٌ"؛ [2] ہدایت کی مشعل بالکل خاموش (اور بجھی ہوئی) تھی؛ یعنی عالم وجود کے پاکیزہ حقائق کی طرف کوئی ہدایت موجود نہیں تھی؛ وَالعَمىٰ شامِلٌ یعنی اندھا پن ہمہ گیر تھا۔ یعنی امیرالمؤمنین (علیہ السلام) مکہ اور مدینہ اور ان حدود کی اس انداز سے تصویر کشی کرتے ہیں جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) مبعوث ہوئے تھے۔ لوگ نادان تھے، ان پڑھ تھے، ضدی تھے، متعصب تھے، فاسد اور بدعنوان تھے، متکبر تھے۔۔۔ ان میں تمام دیگر پلید صفات کے ساتھ ساتھ تکبر بھی تھا۔۔۔ ظالم تھے، ان کے درمیاں طبقاتی اختلاف تھا۔ ان کا بڑا بھی برا تھا، چھوٹا بھی برا تھا؛ ان کا ظالم، ان کا مظلوم، ان کا غلام اور ان کا آقا سب۔ اس طرح کی صورت حال میں بعثت کا واقعہ رونما ہؤا، اسلام کی ولادت ہوئی، قرآن نازل ہؤا ایک ایسے ماحول میں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام عقل اور ایمان پر استوار ہے۔ اسلام کے تمام پروگراموں اور منصوبوں کو عقل و ایمان سے پرکھنا اور سمجھنا چاہئے۔ ان لوگوں میں نہ تو عقل تھی نہ ہی ایمان تھا۔ پیغمبرؐ نے اس معاشرے میں داخل ہوئے؛ یعنی آپؐ نے ان الٰہی بیانات، وحی الٰہی اور کلام اللہ کو ان لوگوں کے سامنے بیان کیا اور عرصہ 13 سال میں ـ جو کہ ایک طویل عرصہ نہیں ہے ـ ان ہی لوگوں میں سے عمار اور ابوذر جیسی شخصیات کی تعمیر کی، مقداد بنایا ان ہی لوگوں میں سے۔
ایک استاد ایک کلاس میں داخل ہوتا ہے جہاں بچے سب شریر، کند ذہن، بے توجہ، بے استعداد، سبق سے دلچسپی نہ رکھنے والے، اور پھر اسی کلاس سے شائستہ، آمادہ، پڑھے لکھے اور سمجھدار افراد کی تربیت کرے، اس کو اپنے ذہن میں رکھیں، اور اس کو ہزاروں گنا بڑھا دیں، تو بعثت اور مکہ کی صورت حال سامنے آئے گی؛ یعنی اسلام کی قوت، اللہ کے دین کی قوت، الٰہی احکام و معارف کی قوت اس قدر زیادہ ہے کہ وہ اس طرح کے انسانوں اور اس طرح کی بےنظیر شرافتوں کو پروان چڑھا سکتی ہے۔ ابوذر چھوٹے انسان نہيں ہیں، یہی ابوذر عصر جاہلیت میں ویسے ہی تھے، عمار بھی ویسے ہی، اور وہ تیسرا بھی ویسا ہی، وہ سب مختلف حوالے سے ویسے ہی تھے۔
یہ بات ہمارے آج [اور عصر حاضر] کے لئے اہم ہے۔ میں اس کا دعویٰ کرنا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام آج بھی وہی قوت رکھتا ہے۔ آج انسانی برادریاں ان ہی صفات میں مبتلا ہیں، لیکن ان کی زبان (اور لب و لہجہ) اور ان شیوہ مختلف ہے؛ وہی، اسی زمانے کا، ظلم، آج بھی ہے؛ وہ تکبر، آج بھی ہے، وہ فساد اور برائی آج بھی ہے۔
ان حالیہ چند مہینوں میں آپ بھی دنیا کی خبروں میں سنتے آئے ہیں: انھوں نے فساد کا جزیرہ [3] بنایا؛ کیا یہ مذاق ہے؟ اخلاقی فساد، عملی فساد، ظلم، جبر، مداخلت، جس کسی تک بھی ان ہاتھ پہنچے، اسے مار دے، جہاں بھی ان کا ہاتھ پہنچے ہاتھ ڈال دیں؛ انسان وہی انسان ہے لیکن آج کے انسان کی زبان بدل گئی ہے، اس کی ظاہری شکل و صورت بدل گئی ہے۔ آج خوشبو لگا کر، ٹائی باندھ کر اور کوٹ پتلون اور خوبصورت لباس پہن کر آتا ہے میدان میں؛ یہ وہی لوگ ہیں، ان اور ان میں فرق نہیں ہے۔ آج انسانیت ـ البتہ جو کچھ کہہ رہا ہوں پوری نوع بشر کے بارے میں نہیں ـ بہت سے معاشروں، بالخصوص مغربی معاشروں میں، اس آفت سے دوچا ہیں؛ حق کشی ہوتی ہے، کمزور کشی ہوتی ہے۔
وہی ابو جہل آج بھی ہے؛ وہی ابن مغیرہ مخزومی آج بھی ہے: " إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ" ابن مغیرہ کے بارے میں ہے؛ "إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ * فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ؛ "قُتِلَ" یعنی موت ہو اس پر (وہ مر جائے). "فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ٭ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ * ثُمَّ نَظَرَ * ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ" اور اگلی آیات [4] ۔ آج بھی وہی لوگ ہیں، وہی لوگ ہیں جو کروڑوں انسانوں پر حکومت کرتے ہیں، اپنے ماتحتوں کو بھی جہنم کی طرف کھینچ کر اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔ قرآن کریم میں فرعون کے بارے میں ارشاد ہے: "يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ؛ [5] فرعون، اسی دنیا کی طرح، جب وہ اپنے عوام کا زعیم تھا، روز قیامت بھی رئیس ہے اور آگے آگے ہے، اس کو جہنم کی طرف روانہ کرتے ہیں اور اس کے پیچھے آنے والوں کو بھی جہنم میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ خود جہنم کی طرف رواں دواں ہیں، وہ خود حقیقی اور ملکوتی معنوں میں، حہنم میں ہیں، اپنے [تابعدار] لوگوں کو بھی جہنم کی طرف لے جاتے ہیں۔ بہرحال یہ آج کی دنیا ہے۔
اسلام وہی اسلام ہے؛ یہ اسلام، آج کی دنیا کا رخ موڑ سکتا ہے؛ یہ ایسا کر سکتا ہے۔ ہم ـ ضروری نہیں ہے کہ میں اور آپ ـ یہ اسلام کے حامی، اسلام کے معتقدین، اسلام پر ایمان رکھنے والے، ایسا کر سکتے ہیں کہ دنیا کو فساد اور برائی کی ڈھلان سے، صلاح اور نجات اور شرافت کی چوٹیوں کی طرف لے جا سکتے ہیں؛ دنیا کو جہنم سے جنت کی طرف لے جا سکتے ہیں؛ آج بھی یہ ممکن ہے۔ آج بھی یہ ہو سکتا ہے لیکن اس کی شرط ہے اور وہ یہ کہ "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ۔" "أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ" کا مطلب یہی ہے: آپ دنیا کو اپنے پیچھے، روانہ کر سکتے ہیں، لیکن کب؟ "إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ"؛ [6] ایمان لازم ہے۔ درست ہے کہ ہم اور آپ بھی ایک ایمان کے حامل ہیں، الحمد للہ، خدا کا شکر؛ لیکن یہ ایمان ابوذر کا ایمان نہیں ہے؛ ہمیں اپنے اعمال درست کرنا پڑیں گے، اپنا کام درست کرنا پڑے گا، اپنے دلوں کو درست کرنا پڑے گا۔ اگر ہم یہ سارے کام کر دیں، قرآن کی نصیحت، اسلام کی نصیحت، پیغمبرؐ کی نصیحت کو سن لیں، [اور اس کے مطابق عمل کریں]، نہج البلاغہ کو اہمیت دیں، اور اس کے مطابق عمل کریں، تو وہی کچھ ہمارے پاس بھی ہوگا جو اس پیغمبرؐ کے پاس تھا؛ ہم بھی وہی کچھ کر سکیں گے جو پیغمبرؐ اس دن کر سکے؛ دنیا کو پلٹا سکیں گے صلاح اور نیکی کی طرف؛ ان ہی ناہنجار اور نااہل لوگوں کے ماتحت معاشروں کو پیشرو اور انسان ساز معاشروں میں تبدیل کر سکیں گے، اگر [بشرطیکہ] ان شاء اللہ [ہم میں] "إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ" عملی صورت اپنائے۔ ہمیں خیال رکھنا [اپنی دیکھ بھال] چاہئے، جتنا کچھ جانتے ہیں اس پر عمل کریں، گناہ سے پرہیز کریں۔ ہمارا آج کا ایمان ابوذر جیسی شخصیات کی تعمیر کرنا والا ایمان نہیں۔ البتہ خوش قسمتی سے اسلامی جمہوریہ میں، فردی لحاظ سے ابوذر جیسے لوگ افراد رہے ہیں، یہی عظیم اور نامادار اور حتیٰ کہ بعض گمنام شہداء؛ یہی لوگ ہیں لیکن معاشرے کو تبدیل ہونا چاہئے، صلاح اور نیکی پورے معاشرے پر حاوی ہونی چاہئے۔
اچھا، تو بعثت کا دن ایک ایسا دن ہے، اس طرح کا ایمان پیش کیا گیا اور جن لوگوں نے اسے قبول کیا ان میں سے ایک امیرالمؤمنینؑ تھے؛ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب (علیہما السلام) ایمان لائے، جناب سیدہ خدیجہ ام المؤمنین ایمان لائیں پہلے مرحلے میں دوسرا کوئی نہیں تھا۔ اچھا تو یہ معروضات بعثت کے بارے میں تھے جو ہم نے پیش کیا۔
صہیو-امریکی فتنہ
کچھ جملے اس حالیہ فتنے کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ایک فتنہ وقوع پذیر ہؤا، جس نے لوگوں کو تکلیف دی، اذیت و آزار پہچائی، ایک ملک کو نقصان پہنچایا ـ فتنہ جو ہؤا ـ بعدازاں اللہ کی توفیق سے عوام کے ہاتھوں، ملکی حکام کے ہاتھوں اور موقع شناس اور ماہر مامورین (سیکورٹی حکام اور کارکنوں) کے ہاتھوں یہ فتنہ بحمد اللہ خاموش ہو گیا۔ فتنے کو پہچاننا چاہئے۔ یہاں میں کچھ نکات بیان کرنا چاہتا ہوں:
اول یہ کہ ہم فتنے کی حقیقت کو سمجھ لیں؛ یہ فتنہ تھا کیا؟ کیوں معرض وجود میں آیا؟
دوئم یہ کہ اس فتنے کے اوزار و عوامل کیا تھے، کون لوگ تھے؟ ظاہری طور پر جب آپ دیکھتے ہیں، ایک نوجوان ہے، لیکن مسئلہ کیا ہے؟
[سوئم یہ کہ] ہم اس اقدام کے مقابلے میں، جو دشمن کربیٹھا، کیا موقف اپناتے ہیں اور کیا برتاؤ روا رکھتے ہیں، اور کیا کرتے ہیں؟
ان مسائل پر چند مختصر نکات بیان کروں گا۔
اوّلاً فتنے کی حقیقت:
یہ ایک امریکی فتنہ تھا۔ واضح تھا؛ امریکیوں نے منصوبہ بندی کی، کام کیا۔ امریکیوں کا مقصد ـ میں اسلامی جمہوریہ میں اپنے 40 سال سے زیادہ عرصے کے اپنے تجربے کے ساتھ عرض کرتا ہوں ـ ایران کو نگل لینا ہے۔ وہ جو تسلط انہیں اس ملک پر حاصل تھا، پورے ملک میں عوام کے ہاتھوں، نوجوانوں کے ہاتھوں، اور امام بزرگوار (رضوان اللہ علیہ) کی قیادت میں، ختم ہو گیا؛ اور انقلاب اسلامی کے آغاز سے آج تک، سوچ رہے ہیں کہ اس تسلط کو لوٹا دیں؛ یعنی ایران کو ایک بار پھر اپنے فوجی تسلط، اپنے سیاسی تسلط، اور اقتصادی تسلط کے تحت قرار دیں؛ مقصد یہ ہے۔ یہ مسئلہ اس شخص کا ہی نہیں ہے جو آج امریکہ کا صدر ہے؛ [7] یہ امریکہ کی مستقل پالیسی کا مسئلہ ہے۔ امریکی پالیسی یہ ہے کہ وہ ان خصوصیات کے حامل ملک، کو اس حساس محل وقوع کے ساتھ، اتنے سارے وسائل کے ساتھ، اتنی وسعت اور اتنی آبادی کے ساتھ، برداشت نہیں کر سکتے؛ ایسا ملک، اس ترقی کے ساتھ علمی لحاظ سے، سائنسی لحاظ سے، اور مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے لحاظ سے، جو ترقی کر رہا ہے، یہ امریکہ کے لئے ناقابل برداشت ہے۔
وہی "إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ * فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ"، بیٹھ گیا اور سوچا [کہ اسے کیا کرنا چاہئے] یہ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ ان سے تعلق رکھتا ہے۔
البتہ ماضی میں جب اس طرح کا کوئی فتنہ شروع ہوجاتا تھا ـ جیسا کہ ہمیں کئی فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ـ تو زیادہ تر امریکی ذرائع ابلاغ، دوسرے درجے کے امریکی سیاستدان، یا پھر یورپی ممالک مداخلت کرتے تھے۔ لیکن اس فتنے کی یہ خصوصیت تھی کہ امریکہ کے صدر نے بذات خود مداخلت کر دی، خود بول اٹھا، اظہار خیال کیا، دھمکی دی، بلوائیوں کی حوصلہ افزائی کی، پیغام دیا امریکہ سے ان لوگوں کے لئے، جن کے بارے میں اظہار خیال کروں گا اور بتاؤں گا کہ یہ کون لوگ تھے، بولا، آگے بڑھو، مت ڈرو؛ بولا: ہم تمہاری حمایت کریں گے، فوجی حمایت کریں گے؛ یعنی امریکی صدر بذات خود فتنے میں آیا اور وہ خود اس فتنے کا حصہ ہے۔ اس نے ان لوگوں کو، کچھ لوگوں کو ـ جنہوں نے تخریبکاری کی، آگ لگائی، اور جاکر غیر قانونی کام انجا دیئے، اور لوگوں کو قتل کیا، اس نے ان لوگوں کو "ملت ایران" کے نام سے پیش کیا؛ یعنی اس نے ایرانی قوم پر بہت بڑی تہمت لگائی؛ کہا: "یہ ایرانی قوم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ایرانی قوم کا دفاع کروں۔" یہ سارے کام جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ جو دلائل میں نے پیش کئے یہ سب مستند ہیں [اور ان کے ثبوت موجود ہیں] یعنی کوئی بھی خفیہ بات باقی نہیں رہی ہے؛ اس نے اعلانیہ کہا، آشکارا بات کی، آشکارا حوصلہ افزائی کی۔ ہمارے پاس ایسی دستاویزات ہیں کہ انہوں نے پے در پے ان لوگوں کی مدد کی، امریکیوں نے بھی اور صہیونی ریاست نے بھی، مدد کی۔۔۔ ہم امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں، جانی نقصانات کی خاطر بھی، مالی نقصانات کے لئے بھی اور ملت ایران پر تہمت تراشی کے لئے بھی۔
دوسری بات فتنے کے عوامل [اور ملوث عناصر] ہیں اور یہ لوگ جو میدان میں تھے۔ یہ کون لوگ تھے؟ یہ دو قسم کے لوگ تھے، ایک وہ تھے جنہیں امریکی اور اسرائیلی جاسوسی اداروں نے بڑی توجہ سے چن چن کر بھرتی کیا تھا، ڈھونڈ لیا تھا، اکثر کو ملک سے باہر لے گئے تھے، کچھ کو یہیں تربیت دلائی تھی، کہ کس طرح حرکت کرو، کس طرح آگ لگاؤ، کس طرح خوف و ہراس پھیلاؤ، کس طرح پولیس کو دیکھ کر بھاگ جاؤ؛ انہیں اچھی خاصی رقمیں بھی دی تھیں؛ کچھ لوگ یہ تھے جو ان بلوائیوں کے سرغنے تھے، وہ خود خود کو "لیڈر" کہتے ہیں اور کہتے ہیں: "ہم ان لوگوں کے لیڈر ہیں!"، کچھ لوگوں کے سرغنے یہ تھے۔ بحمد اللہ ان میں سے بہت سارے گرفتار ہوئے؛ فوجی، سیکورٹی اور خفیہ اداروں نے اس سلسلے میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ ان خبیث اور مجرم لوگوں میں سے ـ جو مجرم ہیں ـ حراست میں لئے گئے۔
دوسرے قسم کے لوگ وہ ہیں جو صہیونی ریاست یا فلان جاسوسی ادارے سے تعلق نہیں رکھتے تھے؛ نورسیدہ اور خام افراد ہے جس سے وہ آ کر بات کرتے ہیں، اس کو متاثر کر دیتے ہیں، اس کو جذباتیت سے دوچار کر دیتے ہیں؛ نوجوان بھی ـ جو جذباتی ہیں ـ میدان میں آتے ہیں؛ ایسے کام کر گذرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہئے تھے۔ یہ ان کے پیادے ہیں، ان کا مشن یہ ہے کہ جاکر کسی مقام پر حملہ کریں: ایک چوکی پر، ایک گھر پر، ایک ادارے پر، ایک بینک پر، ایک صنعتی مرکز پر، ایک پاور اسٹیشن پر؛ ان کا مشن یہ ہے۔ وہ سرغنہ انہیں جمع کرتا ہے، ان میں سے ہر شخص 10 افراد کو، 20 افراد کو، 50 افراد کو جمع کرتا ہے، ان کی راہنمائی کرتے ہیں، کہ "فلان مقام پر چلے جاؤ، یہ کام کرو اس جرم کا ارتکاب کرو"، اور بدقسمتی یہ بھی وہی کر ڈالتے ہیں۔ بہت زیادہ جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ اس فتنے میں انہی نادان اور نا آگاہ عناصر نے ـ ان خبیث اور تربیت یافتہ خبیت عناصر کی سرکردگی میں ـ بہت سارے برے کام سرانجام دیئے، بہت بڑے جرائم کا ارتکاب کیا؛ 250 مساجد کو شہید کر دیا، 250 سے زائد تعلیمی اور سائنسی و علمی مراکز کو تباہ کر دیا، نابود کر دیا؛ بجلی کی صنعت کو نقصان پہنچایا؛ طبی مراکز کو نقصان پہنچایا؛ ان شاپنگ سنٹرز کو تباہ کر دیا جن میں عوام کی اشیائے خورد و نوش رکھی گئی تھیں، لوگوں کو نقصان پہنچایا۔ انھوں نے کئی ہزار افراد کو قتل کر دیا؛ بعض افراد کو انتہائی شدید غیر انسانی، بالکل وحشیانہ انداز سے، موت کے گھاٹ اتارا۔ انہوں نے ایک مسجد پر حملہ کیا، کچھ نوجوان دفاع کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، انہوں نے مسجد کا دروازہ بند کیا اور مسجد کو آگ لگا دی اور وہ نوجوان زندہ آگ میں جل گئے!
اب میں عرض کرتا ہوں کہ یہی خود، ایک منصوبہ ہے، ان کے کام کی یہی تفصیلات پہلے سے تیار کردہ نقشے کے اجزاء ہیں۔ طے یہ پایا ہے کہ اس طرح سے عمل کیا جائے، اور اس انداز سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کوچہ و بازار کے عام لوگوں کو، بے گناہ لوگوں کو، تین سالہ بچی [8] کو، مرد کو، نہتی اور بے گناہ خاتون کو قتل کر دیا۔ ان کے پاس اسلحہ تھا، آتشین ہتھیار تھے، تیزدھار ہتھیار تھے، یہ سب انہیں دیا گیا تھا۔ یہ ہتھیار باہر سے آئے تھے، اسی لئے آئے تھے کہ انہیں فتنہ انگیز عناصر کے درمیان تقسیم کیا جائے اور یہ جرائم وقوع پذیر ہو جائیں۔ اچھا تو یہ فتنے کے عوامل؛ فتنے کے عوامل یہ تھے۔
ملت ایران نے فتنے کی کمر توڑ دی
البتہ ملت ایران نے فتنے کی کمر توڑی دی۔ کروڑوں کی تعداد میں میدان میں آ کر؛ ملت ایران نے 12 جنوری (2026ع) کو۔ 12 جنوری بھی 11 فروری کی طرح ایک تاریخی دن بن گیا، 12 جنوری کو ملت ایران کو تعمیر کر دیا اور اپنے سابقہ افتخارات و اعزازات میں ایک نئے اعزاز و افتخار کا اضافہ کیا۔ 12 جنوری کے دن، ملت ایران، تہران میں کئی ملین افراد، اور دوسرے شہروں میں بھی بہت بڑی تعداد میں میدان میں آئے اور مدعیوں کے منہ پر طاقتور گھونسہ رسید کیا۔ بحمد اللہ عوام نے یہ کام کیا، فتنے کو شکست دی، یہ ملت ایران کا کام ہے۔
البتہ دنیا میں صہیونیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے ـ اس لئے کہ زیادہ تر خبر ایجنسیوں کا تعلق صہیونیوں سے ہے ـ ان معدودے چند بلوائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور کہا کہ "یہ ایرانی قوم ہے!"، [لیکن] تہران اور دوسرے شہروں میں یہ عظیم عوام ہجوم میں سے بعض کا ان ذرائع نے نام تک نہیں لیا، کچھ نے تذکرہ کیا اور کہا "کئی ہزار افراد تھے"، یہ ان کی عادت ہے، ان سے یہی توقع کی جا سکتی ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے؛ حققت یہی ہے جو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اپنے شہروں میں یا تہران میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ہمارا برتاؤ
جہاں تک ہمارے برتاؤ کا تعلق ہے، تو ایرانی قوم نے امریکہ کو شکست دی۔ امریکیوں نے طویل عرصے سے اس کے لئے انتظامات کر رکھے تھے، اپنے بڑے مقاصد کے حصول کے لئے، جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ملت ایران نے [امریکہ کو] شکست دی۔ چند ماہ قبل کی چند روزہ جنگ کے بعد، بھی ملت ایران نے امریکہ اور صہیونیت کو شکست دی، آج بھی اللہ کے فضل نے اس قوم نے امریکہ کو شکست دی۔ یہ درست ہے لیکن کافی نہیں ہے۔
جی ہاں ہم نے فتنے [کی آگ] کو بجھا دیا، لیکن یہ کافی نہیں ہے؛ امریکہ کو جوابدہ ہونا چاہئے۔ ہمارے مختلف اداروں اور محکموں کو ـ وزارت خارجہ سے لے کر دوسرے اداروں تک، اس مسئلے سے متعلقہ ادارے ـ کیس کی پیروی کریں، ہم ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے کے جاتے۔ ہمارا ارادہ نہیں ہے کہ ملک کو جنگ کی طرف لے جائیں لیکن اندرونی مجرموں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اندرونی مجرموں سے بدتر بین الاقوامی مجرم ہیں؛ انہیں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ متعلقہ روشوں سے، صحیح طریقوں سے، اس کیس کی پیروی ہونی چاہئے؛ اور اللہ کی توفیق سے ملت ایران ـ جس طرح کہ فتنے کی کمر توڑنے میں کامیاب ہوئی ـ فتنہ پرستوں کا کمر بھی توڑ دے گی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف اور حوصلہ افزائی
میری آخری بات۔ اس واقعے میں ـ اس امریکی-صہیونی فتنے کے مقابلے میں، پولیس، سیکورٹی فورسز اور سپاہ پاسداران اور بسیج نے حقیقتا جانفشانی کی، حقیقتا جانبازی کی انہوں نے؛ رات دن ایک کرکے کام کیا یہاں تک کہ اس فتنے کو مختلف اقدامات سازیوں کے ذریعے مکمل طور پر مٹانے اور خاموش کرنے میں کامیاب ہو گئے جو دشمن نے عظیم ترین اخراجات برداشت کرکے تیار کیا تھا۔ تمام ملکی عہدیداروں نے بھی تعاون کیا۔ ملت ایران نے آخری بات کر دی، اور فیصلہ کن انداز سے مسئلے کو تمام کر دیا، لیکن وحدت ویکجہتی سے۔ میں اپنی ہمیشہ کی سفارش دہرانا چاہتا ہوں:
اولا، عوام کے درمیان وحدت اور یکجہتی کو محفوظ رہنا چاہئے؛ دھڑوں، سیاسی اور جماعتی تنازعات کو عوام کے درمیان رائج نہیں ہونا چاہئے؛ سب ایک رہیں؛ اسلامی نظام کے دفاع کے لئے، مملکت ایران کے دفاع کے لئے، ایران اعزیز کے لئے، سب ساتھ ساتھ رہیں، ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔
ملکی عہدیداروں ـ مختلف شعبوں کے متعلقہ حکام ـ نے بھی حقیقتا کام کیا۔ صدر محترم اور ملک کے دوسرے سربراہوں [9] نے فعالیت کی؛ میدان کے بیچ میں رہے، اور سب نے کام کیا۔ ایسا نہ ہو کہ میں [بطور مثال] اس کام سے بے خبر ہوں جو دوسرے نے سرانجام دیا ہے، لیکن مسلسل تنقید کروں کہ جناب ایسا کیوں ہے اور کیوں ویسا ہے؛ نہیں، سب نے کام کیا۔ میں اس سے یقینا اجتناب کرتے ہوں کہ اس طرح کے حالات میں ملک کے سربراہوں ـ بالخصوص صدر محترم ـ کی اہانت کی جائے، اور اس کی اجازت نہیں دیتا اور منع کرتا ہوں اور نہی کرتا ہوں ان لوگوں کو ـ جو شاید پارلیمنٹ کے اندر یا باہر ہو، ممکن ہے کہیں بھی ہو ـ ہمیں ان کی قدردانی کرنا چاہئے؛ ان ذمہ دار عہدیداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تو وہ لوگوں سے الگ نہیں ہو جاتے، کبھی ماضی میں لوگ میدان میں ہوتے تھے اور ذمہ داران [دور سے] تماشا دیکھتے تھے۔ کبھی حتیٰ کہ عوام کے خلاف کوئی بات کر دیتے تھے! اس دفعہ ایسا نہیں تھا، ذمہ دار حکام لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے، لوگوں کے بیچ موجود تھے، لوگوں کے ساتھ آگے بڑھے اور ان کے ساتھ مل کر کوششیں کیں، کام کیا۔ اس روش کی قدردانی ہونی چاہئے؛ یہ بہت اہم بات ہے۔ میں تاکید کے ساتھ سفارش کرتا ہوں کہ صدر اور دوسرے اداروں کے کارکنوں اور سربراہوں کی ذات کی بات ہے، تو میں سفارش کرتا ہوں کہ انہیں کام کرنے دیا جائے، کوشش کرنے دیا جائے، اور اس عظیم خدمت کو سرانجام دیں جو ان کے ذمے ہے۔
البتہ اقتصادی صورت حال اچھی نہیں ہے؛ لوگوں کی معیشت حقیقتا مشکل سے دوچار ہے؛ میں اس کو جانتا ہوں۔ انہیں [یعنی اقتصادی شعبوں کے حکام کو] کئی گنا زیادہ کام کرنا چاہئے، بنیادی اشیائے ضرورت کے لئے، مویشیوں کی خوراک کے لئے، ضروری اشیائے خورد و نوش کے لئے، لوگوں کی عمومی ضروریات کے لئے، سرکاری عہدیداروں کو دو گنا کام کرنا چاہئے؛ زیادہ سنجیدگی سے کام کرنا چاہئے؛ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ان کی بھی ذمہ داریاں ہیں، ہم عوام کی بھی ذمہ داریاں ہیں؛ ہمیں اپنے فرائض پر عمل کرنا چاہئے۔ اگر ہم اپنے فرائض پر عمل کریں، خدائے متعال ہمارے کام میں برکت دے گا۔ ا
اے پروردگار! یہ برکت کام کو عطا فرما۔
والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
[1]۔ نہج البلاغہ، خطبہ 2۔
[2]۔ ہدایت گمنام، اور ضلالت ہمہ گیر تھی۔ نہج البلاغہ، خطبہ 2۔
[3]۔ غ یہ خصوصی جزیرہ امریکہ ورجن جزائر میں سے ایک ہے جو قانونی عمر سے قبل کی چھوٹی بچیوں اور نوجوان لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس جزیرے کا مالک اسرائیل نواز امریکی مجرم جیفری اپیسٹین تھا امریکہ کے اعلیٰ حکام کا دوست بنا رہتا تھا؛ اور ان کو اسرائیل کے حق میں بلیک میل کرتا تھا۔ وہ اپنے خفیہ جزیرے میں مہمانان خصوصی کی میزبانی کیا کرتا جن میں موجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت سابق امریکی صدور بھی شامل تھے۔ اس شخص نے چند سال قبل ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں، بظاہر جیل میں خودکشی کر لی اور ذرائع نے اس خودکشی کو مشکوک قرار دیا اور کہا گیا کہ اس کے قتل میں ٹرمپ کی پہلی کابینہ کا ہاتھ تھا۔ ان دنوں امریکی صدر ٹرمپ اور آنجہانی کے خفیہ اور اعلانیہ تعلقات کے چرچے ہیں۔
[4]۔ "إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ * فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ٭ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ * ثُمَّ نَظَرَ * ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ * ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ * فَقَالَ إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ * إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ * سَأُصْلِيهِ سَقَرَ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ * لَا تُبْقِي وَلَا تَذَرُ * لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ؛ اس نے سوچا کہ اندازہ کر کے کیا بات کہے * تو وہ مر جائے، کیا اس نے اندازہ لگایا * پھر (سنو) وہ مر جائے کہ اس نے کیسا اندازہ لگایا * پھر اس نے غور سے دیکھا * پھر اس نے منہ سکیڑا اور نفرت کی صورت بنائی * پھر (سچائی کی طرف سے) پیٹھ پھیری اور غرور سے کام لیا * تو کہنے لگا یہ بس (لوگوں سے) سنا سنایا ہوا جادو ہے * یہ نہیں ہے مگر آدمیوں کا کلام * بہت جلدی میں اسے دوزخ کا مزہ چکھاؤں گا * اور تم کیا جانو کہ دوزخ کیا چیز ہے؟ * وہ رحم نہیں کرتا اور نہیں چھوڑتا * وہ کھالوں کو جلا کر سیاہ کر دینے والا۔" (سورہ مدثر، آیات 18 تا 29)
[5]۔ "يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ؛ وہ روز قیامت اپنی قوم کے آگے آگے ہے، جس وقت [فرعون] انہیں دوزخ کی آگ میں داخل کرتا ہے، میں کیا برا ہے وہ داخلہ، جس میں وہ وہ داخل ہوئے ہیں۔" (سورہ ہود، آیت 98)۔
[6]۔ "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ؛ اور کمزوری نہ دکھاؤ اور رنجیدہ نہ ہو اور تم برتر ہو، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔" (سورہ آل عمران، آیت 139)۔
[7]۔ ڈونلڈ ٹرمپ
[8]۔ ملینا اسدی تین سالہ کرمانشاہی بچی تھی جسے مسلح دہشت گردوں نے قریب سے، سر میں گولی مار کر، شہید کر دیا۔
[9]۔ انتظامیہ کے سربراہ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان؛ مقننہ کے سربراہ، مجلس شورائے اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر محمد باقر قالی باف، اور عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ غلام حسین محسنی اژہ ای۔
آپ کا تبصرہ